صحابۂ کرامؓ کے کلام اور علامہ محمد اقبالؒ کی شاعری
منتخب شاعر صحابہؓ
1۔ حسان بن ثابتؓ
وَأَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِي
وَأَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
وَأَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
مفہوم: میری آنکھ نے آپ ﷺ سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا، اور کسی عورت نے آپ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں جنا۔
2۔ کعب بن مالکؓ
قَضَيْنَا مِنْ تِهَامَةَ كُلَّ وَتْرٍ
وَخَيْبَرَ ثُمَّ أَجْمَدْنَا السُّيُوفَا
وَخَيْبَرَ ثُمَّ أَجْمَدْنَا السُّيُوفَا
مفہوم: ہم نے تہامہ کے ہر بدلے کا حساب چکا دیا، اور خیبر کے بعد اپنی تلواریں میان میں رکھ دیں۔
3۔ عبداللہ بن رواحہؓ
أَقْسَمْتُ يَا نَفْسُ لَتَنْزِلِنَّهْ
طَائِعَةً أَوْ لَتُكْرَهِنَّهْ
طَائِعَةً أَوْ لَتُكْرَهِنَّهْ
مفہوم: اے نفس! میں قسم کھاتا ہوں کہ تجھے میدان میں اترنا ہوگا، خواہ خوشی سے یا مجبور ہو کر۔
4۔ کعب بن زہیرؓ
بَانَتْ سُعَادُ فَقَلْبِي الْيَوْمَ مَتْبُولُ
مُتَيَّمٌ إِثْرَهَا لَمْ يُفْدَ مَكْبُولُ
مُتَيَّمٌ إِثْرَهَا لَمْ يُفْدَ مَكْبُولُ
مفہوم: سعاد جدا ہوگئی، آج میرا دل غم زدہ ہے؛ میں اس کے عشق میں گرفتار ہوں۔
5۔ نابغہ جعدیؓ
بَلَغْنَا السَّمَاءَ مَجْدُنَا وَجُدُودُنَا
وَإِنَّا لَنَرْجُو فَوْقَ ذَلِكَ مَظْهَرَا
وَإِنَّا لَنَرْجُو فَوْقَ ذَلِكَ مَظْهَرَا
مفہوم: ہماری بزرگی اور ہمارے آباؤ اجداد کی عظمت آسمان تک پہنچ گئی، اور ہم اس سے بھی بلند مقام کی امید رکھتے ہیں۔
6۔ لبید بن ربیعہؓ
أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ
وَكُلُّ نَعِيمٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلُ
وَكُلُّ نَعِيمٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلُ
مفہوم: اللہ کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے، اور ہر نعمت لازماً ختم ہونے والی ہے۔
7۔ عباس بن مرداسؓ
أَطَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ لَمَّا أَتَانَا
مفہوم: جب اللہ کے رسول ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپ ﷺ کی اطاعت قبول کی۔
8۔ عدی بن حاتمؓ
أَرَى الْمَوْتَ لَا يَنْجُو مِنَ الْمَوْتِ هَارِبٌ
مفہوم: میں دیکھتا ہوں کہ موت سے بھاگنے والا بھی موت سے نہیں بچ سکتا۔
9۔ ابو سفیان بن حارثؓ
أَدَامَ اللَّهُ ذَلِكَ مِنْ صَنِيعٍ
مفہوم: اللہ اس نیک کارنامے کو قائم و دائم رکھے۔
10۔ عمرو بن العاصؓ
أَمْرُ الْقَضَاءِ إِلَى اللَّهِ فَاعْتَصِمْ
مفہوم: فیصلہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے، پس اسی کو مضبوطی سے تھامو۔
11۔ عبداللہ بن زِبَعریٰؓ
يَا رَسُولَ الْمَلِيكِ إِنَّ لِسَانِي
مفہوم: اے اللہ کے رسول ﷺ! میری زبان اپنے سابقہ رویے کی تلافی کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
12۔ ضرار بن خطابؓ
لَعَمْرِي لَقَدْ أَبْلَيْتُ يَوْمَ مُحَمَّدٍ
مفہوم: میری جان کی قسم! میں نے محمد ﷺ کے زمانے میں اپنے عمل کے ذریعے اپنا فرض ادا کیا۔
دیگر شاعر صحابہؓ: عبداللہ بن حذافہؓ، ہبیرہ بن ابی وہبؓ، قیس بن خطیمؓ، ابو قیس صرمہ بن ابی انسؓ، خفاف بن ندبہؓ، اسود بن سریعؓ، حارث بن ہشامؓ، عمرو بن شاسؓ، ضرار بن ازورؓ، مزرد بن ضرارؓ، ایمن بن خریمؓ، ابو طفیل عامر بن واثلہؓ، حمید بن ثور الہلالیؓ۔
علامہ محمد اقبالؒ — اللہ، قرآن اور رسول ﷺ
1۔ اللہ اور خودی
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
2۔ سجدہ اور آزادی
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
3۔ قرآن
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
4۔ قرآن سے تعلق
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار
اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار
5۔ رسولِ اکرم ﷺ
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
6۔ اسمِ محمد ﷺ
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمد سے اجالا کر دے
دہر میں اسمِ محمد سے اجالا کر دے
7۔ عشقِ رسول ﷺ
عشق دمِ جبرئیل، عشق دلِ مصطفیٰ
عشق خدا کا رسول، عشق خدا کا کلام
عشق خدا کا رسول، عشق خدا کا کلام
8۔ قرآن و مصطفیٰ ﷺ
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول، وہی آخر
وہی قرآن، وہی فرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ
وہی قرآن، وہی فرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ
9۔ امتِ مسلمہ
حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
10۔ قرآن و کردار
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشاف
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشاف
11۔ عشقِ مصطفیٰ ﷺ
سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفیٰ سے مجھے
کہ عالمِ بشریت کی انتہا ہے یہ
کہ عالمِ بشریت کی انتہا ہے یہ
12۔ عشق اور قرآن
اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہیں ہے عشق تو سب کچھ ہے لا مکانی
نہیں ہے عشق تو سب کچھ ہے لا مکانی