ماں باپ سے زیادہ بہتر اپنے بچوں کی تربیت کوئی نہیں کر سکتا۔ ماں کی گود پہلی درس گاہ ہے۔ چنانچہ ماں باپ کی تربیت کی اشد ضرورت ہے، آئیے ہمارا ساتھ دیجیے، اپنے لیے اپنی نسلوں کے لیے
ذیل میں دیے گئے کاموں کو سیکھیے اور ان کا اہتمام فرمائیے۔
۔ ہر مسلمان ماں باپ قرآن کا کچھ حصہ ضرور یاد کرے گا۔ اسی طرح نماز اور تھجد میں بچوں کے لیے قرآنی اور مسنون دعائیں مانگیں۔
اللہ پاک کا قرآن پاک میں ارشاد پاک ہے : اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو۔ اور خود بھی اس پہ ثابت قدم رہو، ہم تم سے رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم تمہیں دیں گے اور بہتر انجام تقوٰی ہی کا ہے۔ سورہ طٰہٰ آیت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مرد اپنے گھر والوں کا نگران ہے، اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ صحیح بخاری 7138
۔ تعلیم و تربیت کی نگرانی خود کریں
۔ گھر کا ماحول درست کر یں اور برے دوستوں سے دور رکھیں
۔ ہر قسم کے گناہ سے خود بھی بچنے کی کوشش کریں ، اور گناہ کے آلات سے گھر کو پاک کریں۔ خصوصا موبائل کے استعمال پر نگرانی رکھیں ، بچیوں کے موبائل پر نامحرم لڑکوں کے میسج معاشرے کو کافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ آج کل اہل باطل ایسے گیم بناتے ہیں جو بے حیائی اور والدین کی نا قدری سکھاتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو ہر چیز کا صحیح استعمال بتاتے رہیں اور غلط استعمال کے نقصان سمجھاتے رہیں۔
تعمیر شخصیت کے راہنما اصول :
ہ جس بچے کی ہر وقت حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، اس میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔
ہ جس بچے کو تنبیہ کے لیے اللہ تعالیٰ سے ڈرایا جاتا ہے وہ متقی بن جاتا ہے۔
ہ جس بچے کی ہمیشہ اور بے جا مار پیٹ , بات اصرار کرنے اور رونے کے بعد پوری, کی جاتی ہے، وہ باغی ہو جاتا ہے۔
جس بچے پر بھروسا نہیں کیا جاتا، وہ دھو کے باز بن جاتا ہے۔
جس بچے کا ہر وقت مزاق اڑایا جاتا ہے، وہ احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
جس بچے کو خیالی چیزوں سے ڈرایا جاتا ہے، وہ بزدل ہو جاتا ہے۔
جس بچے پر ہر وقت غصہ کیا جاتا ہے وہ خوف زدہ ہو جاتا ہے اور بڑا ہوکر وہ ذرا ذراسی بات پر غصے کا عادی ہو جاتا ہے۔
✅رنگ بھرنا، لکھنا، لیبل لگانا، الفاظ کے کھیل اور سوالات
- وال چارٹ اور وڈیوز سے سنائیں،دکھائیں، عملی کروائیں یعنی نفسیات پہ عمل کروائیں کہ میں سنتا ہو بھول جاتا ہو، دیکھتا ہو یاد رہتا ہے، کرتا ہوں سمجھ جاتا ہو۔
- میچنگ گیمز اور فلیش کارڈز
- الفاظ کے کھیل،پہیلیاں اور اسلامی الفاظ پہچاننے کا کہیں
-
اسمبلی ۔ پندرہ منٹ
تلاوت سورہ فاتحہ اور ایک سورت روز
ولله الأسماء الحسنى فادعوه بها
حمد و نعت
لطیفہ
ایک ادب و دُعا
اردو - 15 تا 30 منٹ
وڈیو روک کریا اسباق پڑھانے کے ساتھ ساتھ سوالات کریں، جیسے : اللہ کون ہے؟
سرگرمی: بچوں کو آسمان، سورج، چاند، اور ستاروں کی تصاویر دکھائیں اور بتائیں کہ یہ اللہ نے بنایا ہے۔ اور آپس میں مکالمہ کروائیں۔
گرافک ڈیزائن - پندرہ منٹ
ریاضی - 15 تا 30 منٹ
وڈیو روک کریا اسباق پڑھانے کے ساتھ ساتھ سوالات کریں، جیسے : اللہ کون ہے؟
سرگرمی: بچوں کو آسمان، سورج، چاند، اور ستاروں کی تصاویر دکھائیں اور بتائیں کہ یہ اللہ نے بنایا ہے۔ اور آپس میں مکالمہ کروائیں۔
وقفہ - پندرہ منٹ
ریت پر لکھنا
فٹ بال
جھولا
جنرل نالج
انگریزی - 15 تا 30 منٹ
وڈیو روک کریا اسباق پڑھانے کے ساتھ ساتھ سوالات کریں، جیسے : اللہ کون ہے؟
سرگرمی: بچوں کو آسمان، سورج، چاند، اور ستاروں کی تصاویر دکھائیں اور بتائیں کہ یہ اللہ نے بنایا ہے۔ اور آپس میں مکالمہ کروائیں۔
جنرل نالج ، سائنس - 15 تا 30 منٹ
قرآن پاک اور گرافک ڈیزائن، ہماری تاریخ، ہمارے اسلاف
بچہ بولنا سیکھ رہا ہے ۔ وہ دیکھ کر سمجھ رہا ہے۔ چنانچہ وہ جو دیکھے گا۔ سنے گا۔ وہی اس کی پہلی تختی پہ محفوظ ہوتا جائے گا ۔چنانچہ اس کو قرآن پاک، اسمائے حسنٰی ، اسمائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سنائے جائے ۔
جب بچہ بولنا سیکھے تو سب سے پہلے اللہ کہنا سکھائیں ،اسمائے حسنٰی اور اسمائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سکھائیں۔
تقریباً پانچ سال تک آپ نے پڑھنے کے لفظ کا استعمال نہیں کرنا، بلکہ کھیلنا کا لفظ استعمال کیجیے، بھلے آپ کچھ سکھا رہے ہیں، یہ بچے کی نفسیات ہے، لہذا نفسیات کے خلاف کوشش نہ کیجیے۔وہ بولنا شروع ہوا ہے وہ دیکھے گا، سنے گا، بولے گا۔ اب آپ نے کیا کرنا ہے اپنے بچے کو جب وہ بولنا شروع کرے تو کلمہ طیبہ زبانی اردو ترجمہ کے ساتھ اور دین کی بنیادی باتیں سکھانی ہے،
تجوید کے مطابق اتنا قرآن مجید سیکھ لینا فرض عین ہے، جس نے مسلمان نماز ادا کر سکے- اسی طرح قرآن پاک کے پانچ حقوق ہیں۔ ان کو جانیں اور عمل فرمائیں۔ وہ یہ ہیں ۱۔ قرآن پاک پڑھنا سیکھنا۔ ۲۔ اس کے معنی و مطالب جاننا۔ ۳۔ اس کی سمجھنا۔ ۴۔ اس پہ عمل کرنا۔ ۵۔ اس کو دوسروں تک پہنچانا۔
پھر اشیاء کے نام اس کو بتائے جائیں گے، پھران کی خاصیتیں اور کیفیات جیسے پانی پیاس بجھاتا ہے، آگ جلاتی ہے، کرسی پر بیٹھتے ہیں، وغیرہ۔ پھر وہ لکھنا سیکھے گا ۔ جس میں سب سے پہلے وہ رنگ بھرنا سیکھے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے نام لکھے گئے ، میں رنگ بھرے ۔
پھر اشیا کے نام میں رنگ بھرنا سکھائیے۔ پھراردو عربی اور انگلش زبان کے حروف لکھے اورسمجھائے جائیں۔
۔ یہ کام چلتے پھرتے بھی ممکن ہو، لیکن ایک بات کا خیال رکھیں آپ نے تمام دن میں یہ کام ۳ سے ۴ مرتبہ دہرانا ہے۔ اور جب آپ کا بچہ تنگ کرے تو سورہ فلق ، سورہ ناس یا مسنون دعائوں کا اہتمام کیجے، ان شاء اللہ مسئلہ حل ہو گا۔ اب اگر بچہ پڑھ رہا ہے اور سنا رہا ہے، تو ساتھ ساتھ آپ نے حوصلہ افزائی کرنی ہے۔ ماشاء اللہ ۔ بارک اللہ کے الفاظ کے ساتھ، یہ کام ایک نشست میں ۵ تا ۱۵ منٹ میں ہو جائے گا، اور پورے دن میں تقریبا ایک گھنٹہ یا ۲۰ منٹ لگے گے۔ اب اس کا فائدہ کیا ہو گا، جو بچہ اسکول میں چھ گھنٹے میں سیکھ کر آتا۔ وہ اس نے ۲۰ منٹ یا ۱ گھنٹہ میں سیکھ لیا۔ اور آپ کا بچہ تا حیات آپ سے جڑارہے گا، کیوں کہ آپ نے اس کی وہ تربیت کی ہے۔ جو مطلوب ہے۔ بچہ دنیا و آخرت میں کامیاب بھی ہو گا ان شاء اللہ مزید سبق آگے بتائوں گا
ماں باپ اپنے بچوں کو نماز سکھا ئیں ، نماز کے فضائل سمجھا ئیں اور جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو نماز کا حکم کریں نماز پڑھنے پر حوصلہ افزائی کریں اور جب دس سال کا ہو جائے تو نماز نہ پڑھنے پر ماریں۔ اسی طرح بلوغت سے بہت پہلے بچوں کو روزہ رکھنے کا عادی بنائیں اسی طرح صدقہ دینے کی تربیت دیں۔
اس مرحلے میں طلبہ کو مکمل جملے بولنے، سننے کی مہارت بہتر بنانے، اور تحریری مشق پر توجہ دینی ہوگی۔
اس سطح پر طلبہ روانی، فہم، اور باقاعدہ تحریر پر کام کریں گے۔
- ہر سبق کے اختتام پر بچوں کو ایک چھوٹا انعام دیں، جیسے اسٹیکرز یا رنگین کارڈز، ماشاء اللہ ، بارک اللہ، اور جن بچوں کے اسباق میں کمی ہے، ان کی حوصلہ افزائی کرنی ہے۔ اور آئندہ اسباق صحیح کے لیے ترغیب دینی ہے، اور ان کے لیے دعا کرنی ہے۔
- والدین کو شامل کریں اور انہیں بچوں کی کارگزاری سنائیں۔